پرایا دھن
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - مراد: لڑکی جو دوسرے کے گھر بیاہی جاتی ہے۔ "بیٹیوں کی مامتا کچھ قدرتاً بییٹوں سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ وہ پرایا دھن ہیں۔" ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١٦٨ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ صفت 'پرایا' کے ساتھ ہندی آم "دھن" بطور موصوف لگنے سے مرکب توصیفی بنا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٩٢٤ء کو "انشائے بشیر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مراد: لڑکی جو دوسرے کے گھر بیاہی جاتی ہے۔ "بیٹیوں کی مامتا کچھ قدرتاً بییٹوں سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ وہ پرایا دھن ہیں۔" ( ١٩٢٤ء، انشائے بشیر، ١٦٨ )
جنس: مذکر